وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ عمران نے واضح کیا ہے کہ ان کی برطرفی کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ نہیں تھی۔

لاہور: وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے واضح کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا نہ تو ان کی (خان کی) حکومت گرانے میں کوئی کردار تھا اور نہ ہی سابق وزیراعظم پر قاتلانہ حملے میں۔

مسٹر الہٰی خان کے اس بیان کا حوالہ دے رہے تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’آئیے مان لیتے ہیں کہ حکومت کی تبدیلی کی سازش کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ نہیں تھا بلکہ اسے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا اور اس سازش کو روکنا چاہیے تھا کیونکہ وہ کرپٹ اور لٹیروں کے پس منظر کے بارے میں اچھی طرح جانتی تھی۔ ” مسٹر خان نے زور دیا تھا کہ ’’حکومت کی تبدیلی کی کوئی بھی سازش اندر سے حمایت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی‘‘۔

اتوار کو یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے الٰہی نے کہا کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی سابقہ ​​حکومتوں نے صرف ’’سیاسی ڈرامے‘‘ کیے جب کہ صوبے میں پی ٹی آئی کی مخلوط حکومت نے بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے بھی واضح کر دیا ہے کہ وفاق میں ڈراموں کے علاوہ کچھ نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی سے پنجاب میں صرف فرضی کارروائیاں کی گئیں اور معاملات مزید بگڑ گئے۔

الٰہی نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اقتدار میں آنے کے بعد بری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی واپسی کا سوال شریف خاندان سے پوچھا جانا چاہیے اور مزید کہا کہ ن لیگ کے رہنماؤں نے ”لمبے چہرے“ کھینچ لئے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے نومولود بچوں کے اغوا کے واقعات کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات کا حکم دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی ٹی بورڈ کے نئے نظام کے تحت اگر کوئی بچے کو بغیر اجازت ہسپتال سے باہر لے جانے کی کوشش کرے گا تو الارم بجنا شروع ہو جائیں گے۔

مسٹر الٰہی نے میو ہسپتال کے قریب زمین کے ایک ٹکڑے سے تجاوزات ہٹانے کے لیے آپریشن شروع کرنے کا بھی حکم دیا، اور مزید کہا کہ ان لوگوں کے لیے متبادل انتظامات کیے جائیں جو سرگرمی کے دوران بے گھر ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *